بچوں کو خطرناک حالات و عادات سے بچائیں

بچوں کو خطرناک حالات و عادات سے بچائیں

 ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے بدلتے ہوئے منظر نامے کے ساتھ یہ ضروری ہے کہ والدین اور اساتذہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مل کر کام کریں کہ بچے محفوظ ہیں اور اچھے شہری بننے کے لیے انہیں ضروری مہارتیں دی جارہی ہیں۔ بچوں کو صحت مند عادات، حفاظت، اور ڈیجیٹل خواندگی کے بارے میں سکھانے سے انہیں خطرناک عادات، دھونس اور دیگر خطرات سے بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔ بچوں کو خطرناک اور نقصان دہ…

Read More Read More

بچوں میں نافرمانی کی وجہ تلاش کریں

بچوں میں نافرمانی کی وجہ تلاش کریں

جب بچوں میں نافرمانی سے نمٹنے کی بات آتی ہے تو اس رویے کی بنیادی وجوہات کو سمجھنا ضروری ہے۔ بچے مختلف وجوہات کی بنا پر نافرمان ہو سکتے ہیں، بشمول فہم کی کمی، توجہ کی ضرورت، حدود کا نہ ہونا، رابطے کی کمی، خواہشات کا پورا نہ ہونا، بُرے گروہ کا شکار ہونا وغیرہ۔  بالغ ہوتے ہوئے بچوں میں یہ اکثر اس لیے ہوتا ہے کہ وہ والدین سے مضبوط ربط نہیں رکھتے اور یہ کہ والدین نے شروع…

Read More Read More

بچوں کے لئے واضح حدود رکھیں 

بچوں کے لئے واضح حدود رکھیں 

میں نے دیکھا ہے کہ اکثر والدین بچوں سے زیادہ پوچھتے نہیں۔ میں نے کئی سارے بچوں کو رات کو گلیوں میں پھرتے دیکھا ہے۔ان میں ایسے بچے بھی تھے جو ابھی ابتدائی یا درمیانی جماعتوں میں تھے لیکن وہ رات کو مختلف قسم کے پروگراموں میں شرکت کرنے کے لیے جاتے رہے تھے۔    یہ ظاہر کرتی ہے کہ والدین کی طرف سے ان پر کوئی پابندی نہیں ہے اور ان کو کوئی حدود کے بارے میں نہیں بتایا…

Read More Read More

بچوں کے لئےاسکرین ضروری ہے لیکن مضر ہے

بچوں کے لئےاسکرین ضروری ہے لیکن مضر ہے

بچوں میں اسکرین کا استعمال وبا کی طرح پھیل رہا ہے۔ وہ اسکرین کے عادی ہورہے ہیں اور یہی عادت ان کو ضدی بناتی ہے اور صحت   کے مسائل اس کے علاوہ ہیں۔  ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اسکرین بچے کو زیادہ سے زیادہ لطف اندوزکراتی ہے جس کا متبادل والدین کا پیار نہیں ہو سکتا۔ اس لیے جب بچہ ایک دفعہ اسکرین کا عادی ہوگیا تو وہ سنبھالا نہیں جائے گا۔ لیکن دوسری طرف اسکرین کا مناسب استعمال بھی…

Read More Read More

سزا کبھی بھی بچے کو درست نہیں کرتی

سزا کبھی بھی بچے کو درست نہیں کرتی

چیخنا، چلانا، مارنا، کوئی چیزپکڑ لینا وغیرہ یہ ساری منفی سزائیں ہیں جو بچے کوضدی، ہٹ دہرم اور ڈھیٹ بناتی ہیں۔ اس کی جگہ پر کوئی بھی مثبت سزا دی جاسکتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر وہ کچرا دان کا استعمال نہیں کرتا تو آپ اس سے کمرے کی صفائی بطور سزا کروا سکتےہیں۔  مادی انعامات (جیسے کھلونے یا کینڈی) سے زیادہ سماجی انعامات (جیسے گلے لگانا اور بوسے) کا استعمال کریں۔ سماجی انعامات اکثر دیے جا سکتے ہیں…

Read More Read More

بچوں کے لئے گھر میں واضح اصول رکھیں

بچوں کے لئے گھر میں واضح اصول رکھیں

ایک دن ایک والدشکایت لے کر آیا کہ استاد اس کے بیٹے کو جماعت میں بیٹھنے نہیں دے رہا۔ میں نےاستاد سے معاملہ پوچھا تو اس نے بتایا کہ  بچہ جماعت میں نہیں بیٹھتا، پتھر مارتا ہے اور دوسرے بچوں کو بھی پڑھنے نہیں دیتا۔میں نے اس کے والد کو کئی دفعہ بلایا کہ اُسے  جماعت  میں بٹھائے۔ یہ سننے پربچے کا والد کہتا ہے کہ جناب !میں اسے پڑھنے کے لیے تو مکتب  نہیں  بھیج  رہا ، میں تو…

Read More Read More

بچوں کواچھی کتابیں لے کر دیں

بچوں کواچھی کتابیں لے کر دیں

ایک دانا کا قول ہے کہ ” اگر آپ دو دنوں تک  کتاب کا مطالعہ نہیں کرتے اور تیسرے دن جا کر بات کرتےہیں تو آپ کی گفتار میں وہ شیرینی نہیں رہتی جو کتاب پڑھنے کے بعدہوتی ہے۔”  کتاب اور انسان کا تعلق بہت پُرانا ہے یہ اتنا پُرانا ہے جتنا کہ انسان خود – جتنی انسان کی تہذیب پُرانی ہے۔  ہماری زندگی ایسی ہی گزرتی ہے جیسے ہماری عادات ہوتی ہیں۔ لیکن ہماری عادات ہماری سوچ سے بنتی…

Read More Read More

بچوں کو اظہار خیال کی مہارتیں سکھائیں

بچوں کو اظہار خیال کی مہارتیں سکھائیں

یہ بات شاید دو سال سے زیادہ پرانی نہ ہوجب مجھے ایک محفل میں ایک بزرگ کو سننے کا موقع ملا۔ میں اس وقت اظہار خیال سے متعلقہ مہارتوں سے نہ صرف اچھی طرح واقف تھا بلکہ ان پر مزید کام کر رہا تھا۔ یہ بزرگ کوئی ستر سال کے چٹے ان پڑھ تھے جس نے اپنی زندگی میں شاید ہی کبھی قلم کو چھوا ہو۔ اس کو سنتے ہوئے مجھے لگا کہ یہ بزرگ بولنے میں انتہا کا تربیت…

Read More Read More

بچوں کے  خود اعتمادی پر کام کریں

بچوں کے  خود اعتمادی پر کام کریں

میرے ارد گرد کئی ایسے لوگ ہیں جن کے پاس کوئی ڈگری نہیں ہے۔ مشکل سے میٹرک پاس کر گئے ہیں لیکن مجھ سے کئی گنا زیادہ کماتے ہیں۔ زیادہ کمانے سے مراد یہی ہے کہ مجھ سے کئی گنا زیادہ بہتر زندگی گزار رہے ہیں اور ان کی بات سنی بھی جاتی ہے۔ ان میں سےکوئی بھی ایسا فرد نہیں ہے جس کا خاندان پہلے سے مالی طور پراچھا ہو۔ پھر ایسا کیوں ہے کہ ایک شخص پوری زندگی…

Read More Read More

بچوں کو زندگی کے آداب سکھائیں

بچوں کو زندگی کے آداب سکھائیں

 بچوں کو اچھے آداب سکھانا اہم کام ہے جو بچوں کو دوسروں کے ساتھ احترام اور مناسب طریقے سے بات چیت کرنا سکھاتا ہے۔   اچھے آداب آپ کے بچوں کو دوسروں کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار کرنے، اچھا تاثر بنانے اور اپنے اور دوسروں کے لیے احترام ظاہر کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ بچوں کو آداب سکھانا نہ صرف ان کی سماجی ترقی کے لیے ضروری ہے بلکہ ان کی مستقبل کی کامیابی کے لیے بھی ضروری ہے…

Read More Read More