بچوں میں نافرمانی کی وجہ تلاش کریں

بچوں میں نافرمانی کی وجہ تلاش کریں

جب بچوں میں نافرمانی سے نمٹنے کی بات آتی ہے تو اس رویے کی بنیادی وجوہات کو سمجھنا ضروری ہے۔ بچے مختلف وجوہات کی بنا پر نافرمان ہو سکتے ہیں، بشمول فہم کی کمی، توجہ کی ضرورت، حدود کا نہ ہونا، رابطے کی کمی، خواہشات کا پورا نہ ہونا، بُرے گروہ کا شکار ہونا وغیرہ۔  بالغ ہوتے ہوئے بچوں میں یہ اکثر اس لیے ہوتا ہے کہ وہ والدین سے مضبوط ربط نہیں رکھتے اور یہ کہ والدین نے شروع سے ان کی خاص نظم وضبط کے ساتھ پرورش نہیں کی۔ نافرمانی سے نمٹنے سے  پہلے مسئلہ کو جڑ سے سمجھناضروری ہے۔

نافرمانی کی درج ذیل وجوہات ہو سکتی ہیں؛
گھر میں نظم و ضبط کا نہ ہونا
 والدین اور بچوں میں مضبوط ربط کا نہ ہونا
والدین، اساتذہ  یا بڑوں  کا نامناسب ردِعمل
بچے کا بور (  تنگ) ہوجانا
والدین ، اساتذہ یا بڑوں  میں مستقل مزاجی کا نہ ہونا
بچے کاغیر حقیقی توقعات رکھنا 
بچے کو ضرورت سے زیادہ تناؤ میں رکھنا
بچے کی ضروریات کا پورا نہ ہونا

گھر میں  واضح اصول اور توقعات قائم کرنا ضروری ہے۔ اس بات کو یقینی بنائیں  کہ قواعد اور توقعات عمر کے لحاظ سے مناسب ہیں اور یہ کہ وہ مستقل طور پر نافذ ہیں۔ بچوں میں نافرمانی سے نمٹنا ایک مشکل کام ہوسکتا ہے تاہم رویے کی بنیادی وجوہات کو سمجھنے، واضح اصولوں اور توقعات کو قائم کرنے، اور اصولوں اور توقعات پر عمل کرنے کے لیے مثبت تقویت فراہم کرنے سے یہ ممکن ہے ۔

بچوں کے ساتھ کم زور تعلق ان کے بگڑنے کی پہلی وجہ ہے۔  جب بچے کا والدین کے ساتھ تعلق کم ہو تو وہ باہر تعلقات بناتے ہیں۔ اپنی خوشیاں اور درد باہر شریک کرتے ہیں۔  یہ بچوں کے بگڑنے کی طرف پہلا قدم ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ بچوں کے ساتھ ہر حال میں رابطہ میں رہا جائے اور ان کی مناسب رہ نمائی کی جائے۔ اس صورت میں بچے اپنا درد اور خوشیا ں باہر شریک کرنے کے بجائے آپ کے ساتھ شریک کریں گے اور آپ ان کو بہتر طور پر مانیٹر کر سکیں گے۔ 


بچوں کو نظم و ضبط  سکھانا والدین کی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ بچوں کے لیے واضح حدود اور توقعات کا تعین کرنا، جسمانی سزا سے گریز کرنا اور اسکرین کے وقت کو محدود کرنا بھی ضروری ہے۔ واضح توقعات قائم کرکے اور مثبت مددفراہم کرکے والدین اپنے بچوں کو نظم و ضبط اور دوسروں کے لیے احترام پیدا کرنے میں مدد کرسکتے ہیں۔

The writer can be reached via Medium, YouTube, Facebook, Amazon, Twitter, LinkedIn, WhatsApp, and Google Scholar.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے