بچوں کے لئے گھر میں واضح اصول رکھیں

بچوں کے لئے گھر میں واضح اصول رکھیں

ایک دن ایک والدشکایت لے کر آیا کہ استاد اس کے بیٹے کو جماعت میں بیٹھنے نہیں دے رہا۔ میں نےاستاد سے معاملہ پوچھا تو اس نے بتایا کہ  بچہ جماعت میں نہیں بیٹھتا، پتھر مارتا ہے اور دوسرے بچوں کو بھی پڑھنے نہیں دیتا۔میں نے اس کے والد کو کئی دفعہ بلایا کہ اُسے  جماعت  میں بٹھائے۔ یہ سننے پربچے کا والد کہتا ہے کہ جناب !میں اسے پڑھنے کے لیے تو مکتب  نہیں  بھیج  رہا ، میں تو اس لیے بھیجتا ہوں کہ گھروالوں کو اور پڑوسیوں کو تنگ کرتا ہے اور روز روز جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔ مدرسے میں رہے گا تو  گھر کچھ آرام ہوگا۔ یہ ایک پرائمری  جماعت  کا بچہ ہے جو اپنی ابتدائی عمر میں والدین و اساتذہ سے باغی ہے۔ یہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ گھر کوئی بھی نظم و ضبط نہیں رکھا گیا اور بچے کو حدود کے بارے میں نہ توسکھایا گیااور نہ ہی پابند کیا گیا۔

بطور والدین جب آپ گھر میں نظم و ضبط کی پابندی کراتے ہیں تو یہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔ لیکن اگر آپ  یہ تکلیف  نہیں اُٹھاتے تو آگے جا کر آپ کو  تکلیف برداشت کرنا پڑتی ہے اور یہ نظم و ضبط کے تکلیف سے کہیں زیادہ اور بے درد ہے۔

احمد ابراہیم

گھرمیں خاص نظم و ضبط  بنائیں، اُسے خود اپنائیں، بچہ خود ہی اُسی ماحول میں ڈھل جائے گا۔ بغیر نظم و ضبط کے جب بچہ بڑا ہوتا ہے تو ایسا ہے جیسے اس کی زندگی میں کوئی حدود نہیں ہیں۔  ان حدود کو بیان کرنے کے لیے بچے اپنے والدین کی طرف دیکھتے ہیں۔   دوسری طرف کچھ والدین سخت نظم و ضبط پر عمل کرتے ہیں (آمرانه والدین)، اپنے بچے کو اپنی دنیا کو تلاش کرنے کی اجازت نہیں دیتے ہیں جس کی وجہ سے اکثر بچے خوف زدہ یا فکر مند  ہو جاتے ہیں۔ دیکھا گیاہے ایسے بچے بڑے ہوکر باغی بن جاتے ہیں جو نہ تو اپنے والدین اور نہ ہی اساتذہ کی بات مانتے ہیں۔ 

شروع سے بچے کی اچھی پرورش کر کے اُسے آسانی سےایک اچھا انسان بنایاجا سکتا ہے لیکن ایک بار بچہ بگڑ جائے تو اس کی اصلاح کرنا بہت مشکل اور تکلیف دہ ہوتا ہے۔

انسان کو اس کا  لاشعور چلاتا ہے۔زندگی کے بڑے فیصلے لاشعوری ہوتے ہیں شعوری نہیں۔ جو عادات ہم اپناتے ہیں وہ اچھی یا بری ہو سکتی ہیں،یہ شعوری یا لاشعوری طور پر نشو و نما پاسکتی  ہیں–  یہی دراصل ہمارا لاشعوری ذہن ہے۔ ہم وہ نہیں ہیں جیسے ہم جسم سے نظر آتے ہیں، ہم کس طرح لباس پہنتے ہیں یا بات کرتے ہیں۔ ہم وہی ہیں جیسے ہماری عادتیں ہیں،جیسے ہمارا لاشعور ہے۔ بری عادات کا انتخاب کرنا آسان ہے لیکن ان کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل اور غیر یقینی ہے۔ اس کے برعکس اچھی عادات کو چننا مشکل ہے لیکن ان کے ساتھ زندگی گزارناآسان ہے۔ گھر میں خاص نظم و ضبط ہوگا تو اسکے ساتھ ہی اس کا لاشعور بنے گا  اور وہ اسی لا شعور کے ساتھ اپنی زندگی گزارے گا۔ 

بچہ صبح کس وقت اُٹھتا ہے؟
———————————————————–
بچے کے روزانہ کے معمولات کا چارٹ بنا ہوا ہے ؟
———————————————————–
بچے کے گھر کے کام کا وقت کیا ہے اور ہر مضمون کا الگ سے وقت مختص کیا گیا ہے ؟
———————————————————–
 بچے کےکھیل کا وقت کیا  اور کتنا ہے؟
———————————————————–
جن بچوں کے ساتھ کھیلتا ہے آپ اس کے خاندان کو جانتے ہیں اور اچھی شہرت رکھتے ہیں بچےکے اسکرین کا وقت کیا اور کتنا ہے؟
————————————————————
بچہ جس سمارٹ فون کو استعمال کرتا ہے اس میں اس سے متعلقہ مواد ہی ہے یا پھرمتعلقہ اپلیکیشن (یوٹیوب بچوں کے لئے) ہے؟
————————————————————–
بچے کے سونے کا وقت کیا ہے؟
——————————————————————

The writer can be reached via Medium, YouTube, Facebook, Amazon, Twitter, LinkedIn, WhatsApp, and Google Scholar.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے