بچے کو  مکتب  کے زہریلے ماحول سے بچائیں

بچے کو  مکتب  کے زہریلے ماحول سے بچائیں

جب میں نہم  جماعت  میں تھا تو میں نے ادارہ تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ مجھے سائنس پڑھنی تھی اور میرے  گاؤں کے  مکتب  میں اساتذہ نہیں تھے۔ بڑی مشکل سے گھر والوں کو منایا اور دوسرے ادارے میں داخلا لیا۔ جب پہلے دن  جماعت  میں بیٹھا ہوا تھا تو انچارج نے  پاس بلایا۔ میں استاد کے پاس گیا چوں کہ میں پہلی دفعہ ان سے مل رہا تھا تومصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایا۔ استادنے ہاتھ تو ملایا لیکن بھری …

Read More Read More

 مکتب  کا انتخاب احتیاط سے کریں

 مکتب  کا انتخاب احتیاط سے کریں

ایک ڈرائنگ کے استاد بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ اس نے نر سری کے بچے کو کاپی پر کچھ عجیب تصویر کھینچتے دیکھا تو اس سے پوچھا کہ؛ بیٹا! کیا بنا رہے ہیں؟  بچہ معصومیت سے جواب دیتا ہے  کہ "میں خدا کی تصویر بنا رہاہوں”۔  استاد اس سے پوچھتا ہے کہ بیٹا خدا کو تو کسی نے دیکھا ہی نہیں توآپ کیسے اس کی تصویر بنا سکتے ہیں؟   بچہ بہت دلچسپ جواب دیتا ہے کہ  "سر آپ اگر…

Read More Read More

بچوں کی تعلیم پر خرچ کریں

بچوں کی تعلیم پر خرچ کریں

گاؤں میں لڑکیوں کا ہشتم تک مدرسہ تو تھا لیکن 400 بچیوں کو پڑھانے کے لیےحکومت کی طرف سے صرف ایک میٹرک پاس، ضعیف العمر، پنشن کی امیدوارمعلمہ مقرر تھی۔ یہی لکھ سکتا ہوں کہ مدرسے کی کسی حد تک عمارت تو تھی لیکن تدریس کا کوئی عمل ممکن نہ تھا۔ اپنی پوری کوشش کے باجود میں اس قابل نہ ہو سکا کہ مدرسہ میں معلمات تعینات کی جاسکیں۔ مجبوراََ اپنی بہن کو ساتھی قصبے کےایک نجی مکتب (پرائیویٹ سکول)…

Read More Read More

تعلیم کامیابی کی کلید ہے

تعلیم کامیابی کی کلید ہے

تعلیم زندگی میں کامیابی اور تکمیل کے حصول کا کلیدی عنصر ہے۔ بچوں کے لیے ایسے ماحول میں ہونا ضروری ہے جو سیکھنے اور ترقی کے لیے سازگار ہو۔ مکتب کا انتخاب کرتے وقت یہ ضروری ہے کہ ماحول اور اس کے فراہم کردہ تعلیم کے معیار پر غور کیا جائے۔ بدقسمتی سے بعض اداروں میں زہریلے ماحول کے امکانات موجود ہیں اور اس سے آگاہ رہنا اور بچوں کو اس سے بچانا ضروری ہے۔ مکتب کے خراب ماحول کے…

Read More Read More

بچے کو نظر انداز نہ کریں

بچے کو نظر انداز نہ کریں

میں گاؤں کے حمام میں بیٹھا بال کٹوا  رہا تھا۔ میرے ایک ہم جماعت کے والد حمام میں داخل ہوئے۔ اس کا دوسرا بیٹا میرا شاگرد تھا اور اپنی جماعت کا اول کا بچہ تھا۔ میں نے اس سے بات شروع کرتے ہوئے کہا کہ ما شاء اللہ آپ کا بیٹا پڑھائی میں بہت اچھا ہے۔ اس کا خیال رکھیں تاکہ وہ گاؤں کے ماحول میں خراب نہ ہو۔ کہنے لگے کہ “میں نے بیٹے کو مدرسے (دینی مدرسہ) بھی…

Read More Read More

بچے کو لیبل نہ کریں

بچے کو لیبل نہ کریں

لیبل چاہے اچھا ہے یا پھر بُرا کبھی بھی استعمال نہیں کر نا چاہیے۔ بچے کو اپنے نام سے اور بیٹا/بیٹی کَہ کر بلائیں۔ والدین بہت آسانی سے پکارتے ہیں کہ اوئے شیطان، میرا ذہین بچہ  وغیرہ۔ یہ تعریف کی حد تک تو ٹھیک ہے لیکن اس کا اس بچے پر اور دوسرے بچوں پر بھی بہت بُرا اثر پڑتاہے۔ میر ی  جماعت  میں ایک بچہ تھا جو بہت ذہین تھا۔ اساتذہ نے اس کو” ذہین” سے لیبل کیا ہوا…

Read More Read More

بچوں سے مزدوری نہ کرائیں

بچوں سے مزدوری نہ کرائیں

بچوں کی پڑھائی میں دلچسپی نہ رکھنے اور پڑھائی ادھوری چھوڑ نےکی بڑی ساری وجوہات ہیں لیکن بچوں سے مشقت کروا کر گھر کا نظام چلانا ایسی وجہ ہے جو سر اُٹھا کر بولتی ہے۔ میں نے اپنی تدریسی خدمات میں دیکھا کہ یہ ایک بنیادی وجہ ہے جس کی وجہ سے بچے پڑھائی میں دلچسپی نہیں لیتے، غیر حاضر رہتے ہیں اور آخر کا رتنگ آکر پڑھائی چھوڑ دیتے ہیں۔   اس میں کوئی شک نہیں کہ یہاں معاشی دباؤ…

Read More Read More

بچوں کو نفرت نہ سکھائیں

بچوں کو نفرت نہ سکھائیں

 ہمارا معاشرہ محبت اور پسند کو تو شاید ہی کوئی اہمیت دیتا ہولیکن نفرت ہم سو کر بھی کرتے ہیں اور صبح و شام  کرتے ہیں۔ سامنے والے کو ہمارے جذبات کا  علم ہے یانہیں لیکن ہم اپنے آپ کو اندر سے اسی نفرت میں مار دیتے ہیں، پگھلا دیتے ہیں، جلا دیتے ہیں اور دماغ   نفرت سےپھٹنے لگتا ہے ۔ سر اس قابل نہیں رہتا کہ سر ہانے سے اُ ٹھا یا جائے۔ ہم یہ بھی توقع رکھتے…

Read More Read More

بچوں کو گھریلو تشددسے بچائیں

بچوں کو گھریلو تشددسے بچائیں

بچوں کی پرورش، تربیت اور پڑھانا مشکل کام ہیں۔ اس کے لیے بہت زیادہ مہارتیں، مستقل مزاجی اور صبر چاہیے لیکن بد قسمتی سے ترقی پزیر ممالک میں یہ سارے کام ڈنڈے سے لیے جاتے ہیں۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب میں مکتب پڑھا کرتا تھا تو مہینے میں ایک دفعہ ہم ڈنڈوں کے بنڈل لے کر جایا کرتے تھے اور پھر انہیں ڈنڈوں سے مار کھایا کرتے تھے۔  بچوں پر گھریلو تشدد بدسلوکی کی ایک شکل ہے…

Read More Read More

الزام تراشی و تنقید سے گریز کریں

الزام تراشی و تنقید سے گریز کریں

ایک ریٹائرڈ استاد کسی دعوت میں شریک تھے کہ ایک نوجوان ان کے پاس آیا۔ اپنا تعارف کرایا اور کہا کہ میں آپ کا شاگر د رہا ہوں اور آپ سے اتنا متاثر ہوں کہ میں بھی آپ کی طرح اپنی نسل کی اصلاح کے لیے استاد بنا۔ استاد اس سے پوچھتا ہے کہ میں نے تمہیں کیسے متاثر کیا؟  تو نوجوان نے کہا جناب جب میں تیسری جماعت میں تھا توکسی بچے سے گھڑی چوری ہو گئی اور آپ…

Read More Read More